دوشنبه ٠٩ اسفند ١٣٩٥ فارسي|English|Urdu
 
صفحه اصلی|ايران|اسلام|زبان و ادبيات فارسی|سوالات متداول|تماس با ما|پيوندها|نقشه سايت
عنوان
ایران
اقبال لاهوري
ورود
نام کاربری :   
کلمه عبور :   
[عضویت]
اشتراک خبرنامه
نام :   
ایمیل :   

 

حرف مدیر مسئوول

 

       مجلہ پیغام آشنا کا زیر نظر شمارہ ایسے مرحلے میں پریس جا رہا ہے جب ملت اسلامی عالمی یوم قدس کی دہلیز پر کھڑی ہے ۔ 1979ءکے بعد سے اب تک ماہ مبارک کا آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کو عالمی یوم قدس کا عنوان دیا جاتا رہا ہے تاکہ عالمی اسلامی برادری کے تمام طبقات قبلہ اول کے غاصب صہیونیوں کے خونخوار پنجوں سے آزاد ہوجانے کی امنگوں سے ہمنوا ہو سکیں ۔ حضرت امام خمینی(ره) نے جو اس منصوبے کے راہ انداز تھے 16ا گست 1979ءکو فرمایاکہ اگر مسلمان متحد ہوتے اور ان میں سے ہر ایک، ایک بالٹی پانی ہی بہا دیتا تو صہیونستی رژیم اس سیلاب میں بہہ جاتی۔ انہوں نے اپنا مبارزہ 1963ء ہی میں شروع کر دیا۔ غاصب اسرائیل کے خلاف یہ مبارزہ اس رژیم کی تشکیل ، طاقت گیری اور پیشروی کے ابتدا ہی میں، اس زمانے میں شروع ہوئی تھی جب امریکہ نے ایران پر اپنے تسلط کا آغاز کر دیا تھا ۔مختلف زمانوں میں امام خمینی(ره) نے جدوجہد کی کہ اس مسئلے کے خطرے سے، جسے وہ ایک سرطانی غدود قرار دے چکے تھے، تمام مسلمانوں اور دنیا کے آزاد منش لوگوں کوآگاہ کریں۔

       روزہ دار مومنین کی پاک و تطہیر شدہ روحوں سے استفادہ اور ایک ایسی پکار جس کی صدائے بازگشت سارے عالم میں سنائی دی اور قدس کی آزادی کی تحریک کی ابتدا کرنا ایک ایسی موفقیت آمیز حکمت علمی تھی جس نے مسلمانوں کی ایک پوشیدہ آرزو کو تمام مسلمانوں کی مشترکہ امنگ کی صورت میں ڈھال دیا ۔ یوم قدس کی اہمیت کو اگرچہ تحریک کی ابتدا میں بہت سے لوگ پہچان نہ سکے تاہم یہ بتدریج فلسطین کے غصب کیے جانے کے خلاف مبارزے کے تھیورٹیکل اصول کو سب کے ليے واضح اور مشروح طور پر پیش کر سکا۔

       اس کے احترام اور عظمت پذیری کا سلسلہ چھوٹے چھوٹے اجتماعات سے شروع ہوا لیکن یہ وہیں پر ختم نہ ہوا بلکہ اس (تحریک) میں جلسات کاا نعقاد، تقریریں ، گول میز کانفرنسیں، اسرائیل کے جرائم کی ایسی تصویری نمایشیں جو اس سے پہلے کسی نے نہ دیکھیں تھیں، دانشوروں علمی اور معاشرتی شخصیات کے نقطہ ہائے نظر کا اظہار جو رپورٹوں، خبروں اور تجزیوں کی صورت میں تھا نیز احتجاجی جلوس اور آخر میں صہیونسٹی رژیم کے پرچم کا آگ لگایا جانا اس عالمی تحریک کے بعض مظاہر میں سے ہیں۔

       آہستہ آہستہ اس تحریک کو فلسطین کے ان پرجوش نوجوانوں کی حمایت ملی جو صرف اور صرف اسلامی محرکات کے ذریعے اپنے وطن کی خاک کے دفاع کو اٹھ کھڑے ہوئے اور آج بحمد للہ ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ یوم قدس کس طرح سے اتحاد اسلامی کے استحکام اور تمام مسلمانوںکے اپنے قبلہ اول کی آزادی کی طرف متوجہ ہو جانے کا سبب بن سکا ہے ۔

       اسرائیل جو 62 سال ہوئے اسلامی سرزمینوں پر غاصبانہ قبضہ کرنے کی لالچ و طمع کے زیر اثر وجود میں آیا تھا اس نے اپنے لیے ایک ایسے پرچم کا انتخاب کیا جس کے درمیان میں ستارہ داودی ہے جس کے دونوں طرف نیلے، آبی رنگ کی پٹیاں ہیں جو دریائے نیل سے دریائے فرات تک کی(سلطنت) کی نشان دہی کرتی ہیں۔ اس حکومت کی یہ خواہش تھی کہ حضرت داود(ع) اور سلیمان(ع) کی عظیم ،مقدس سلطنتوں کے نام سے  سوءاستفادہ کرتے ہوئے ایک ایسی رژیم تشکیل دے جو تمام انبیا کی تعلیمات کے برخلاف بے گناہ انسانوں کے قتل عام ، لوگوں کے گھروں پرناجائز قبضہ اور عالمی امن کو تباہ کرنے کو جائز قرار دے۔ آج وہی رژیم نہ فقط وسیع سرزمینوں پر تصرف اور قبضہ جمانے سے ناامید ہو چکی ہے بلکہ وہ ناچار ہے کہ روز بروز اپنے مقبوضہ علاقوں سے عقب نشینی اختیار کرے۔یہاں تک کہ آج وہ بیت المقدس کے اندر بھی اپنے لیے جائے امن نہیں پاتی اور ناگزیر طور پر اس نے اپنے چاروں طرف ایک بلند دیوار(دیوارِ حائل) تعمیر کرلی ہے کہ مبادا جوان جنگجو فلسطینی نسل اس پر یورش کرے اور اسے عالمی جغرافیہ سے حرف غلط کی طرح مٹا ڈالے۔

       آج امریکا اور انگلستان کی دو مجرم حکومتیں بھی جو مسلسل اسرائیل کی غاصب رژیم کی سب سے بڑی حامی اور طرفدار رہی ہیں ایک ناتوان حکومت کے سنگین اخراجات برداشت کرنے سے عاجز آ چکی ہیں اوراقوام عالم منجملہ اپنی قوموں کی عوامی رائے کے سخت دباو کے تحت اس مصیبت سے نجات کی راہ تلاش کر رہی ہیں ۔آیا ایسی عظیم حاصلات اور کامیابیاں ماسوائے تمام روز دار مومنین اوردنیا کی آزاد قوموں کے یوم قدس میں فلک شگاف نعروں کے بغیر ممکن ہوتیں؟ اور آیا آزادی قدس کی امنگ سے حاصلہ اس پیشرفت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس دن اور آخری منزل آنے تک ہر یوم قدس کو پرشکوہ تر انداز میں نہ منانا چاہیئے؟

 

٭٭٭

 

جستجو
جستجوی پیشرفته جستجوی وب
تازه ها
سي و چهارمين دوره مسابقات بين المللي قرآن كريم

كتابخانه سازمان فرهنگ ارتباطات جمهوري اسلامي ايران

فراخوان سی و پنجمین جشنواره جهانی فیلم فجر

ھمایش بین المللی بزرگداشت فردوسی توسی

دهمین نمایشگاه بین المللی گردشگری و صنایع وابسته تهران

جايزه جهاني مصطفي ص

همايش بين المللي قرآن كريم

ویژہ نامہ بیداری اسلامی ﴿پیغام آشنا﴾

مشهد پايتخت فرهنگي جهان اسلامي

سومين مراسم فيلم و عكس اربعين

دهمين جشنواره فیلم کوتاه ديني رویش

دومین دوره جشنواره خاتم را در بخش داستان کوتاه با محوریت سیره پیامبر رحمت، حضرت محمد مصطفی صلوات الله علیه و آله

خبرگزاري جمهوري اسلامي ايران

بنیاد سعدی

اوقات شرعي

سفارت جمهوری اسلامی ایران در اسلام آباد پاکستان

مجتمع آموزشی امام حسین (ع) اسلام آباد

ايران ياد

دفتر مقام معظم رهبري

دفتر رياست جمهوري

خانه هاي فرهنگ ج.ا.ايران در پاكستان
نظرسنجی
نظرسنجي غير فعال مي باشد
آمار بازدیدکنندگان
بازدید این صفحه: 2044
بازدید امروز : 52
بازدید این صفحه : 293504
بازدیدکنندگان آنلاين : 4
زمان بازدید : 4.1563

صفحه اصلی|ايران|اسلام|زبان و ادبيات فارسی|سوالات متداول|تماس با ما|پيوندها|نقشه سايت